اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے اندر رہنے والے ہزاروں عرب شہریوں نے ہفتے کی شب تل ابیب میں مظاہرہ کیا، جہاں انہوں نے عرب معاشرے میں بڑھتے ہوئے پرتشدد جرائم، منظم جرائم پیشہ نیٹ ورکس اور اسرائیلی پولیس و حکام کی دانستہ غفلت کے خلاف شدید احتجاج کیا۔
عرب 48 نیوز ویب سائٹ کے مطابق، اس احتجاج کا مقصد عرب آبادی میں عدم تحفظ، قتل و غارت میں اضافے اور اسرائیلی پولیس کی خاموشی اور مبینہ ملی بھگت کے خلاف آواز بلند کرنا تھا۔
یہ احتجاج “جرم، تشدد اور بھتہ خوری کے خلاف سیاہ پرچم مارچ” کے عنوان سے منعقد کیا گیا، جس کا اہتمام عرب شہریوں کے مطالبات کی اعلیٰ پیروی کمیٹی اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں عرب بلدیاتی سربراہان کی کمیٹی نے کیا۔
مظاہرین نے تل ابیب کے میوزیم اسکوائر سے مارچ کا آغاز کیا اور حبیما اسکوائر تک پہنچے۔ مظاہرے کے دوران شرکاء نے سیاہ پرچم اٹھا رکھے تھے اور پولیس کے خلاف نعرے لگائے، جن میں اسرائیلی پولیس پر عرب شہریوں کے تحفظ میں ناکامی کا الزام عائد کیا گیا۔
احتجاج کے اختتام پر اسرائیلی پولیس نے باقہ الغربیہ شہر سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ نوجوان کو ایک شدت پسند دائیں بازو کے کارکن کو دھمکی دینے کے الزام میں گرفتار کر لیا۔
اس موقع پر عرب بلدیاتی سربراہان کی کمیٹی کے چیئرمین مازن غنایم نے کہا کہ ہم فخر کے ساتھ اپنی اولاد کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور یہ احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک منظم جرائم کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا اور اسرائیلی حکومت سنجیدگی سے اس مسئلے سے نمٹنے پر مجبور نہیں ہو جاتی۔
کفر قرع سے تعلق رکھنے والے قتل کے ایک متاثرہ خاندان کی والدہ، ختام ابو فنہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بڑے بیٹے فراس کو اس کے کام کی جگہ پر قتل کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں چند ماہ کا ایک بچہ یتیم ہو گیا۔ انہوں نے تمام متاثرین کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا۔
رہط شہر کے میئر طلال القریناوی نے کہا کہ اسرائیلی حکومت نقب کے عربوں کو مجرم سمجھتی ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ عرب معاشرے میں ڈاکٹر، انجینئر اور پبلک ٹرانسپورٹ کے کارکن شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم دہشت گرد نہیں بلکہ اس سرزمین کے اصل باشندے ہیں اور اسرائیل کے قیام سے پہلے یہاں رہتے تھے۔
عرب شہریوں کے مطالبات کی اعلیٰ پیروی کمیٹی کے سربراہ جمال زحالقه نے کہا کہ اس احتجاج میں ایک لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی۔ ان کے مطابق یہ تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک عرب معاشرے کے خلاف منظم جرائم کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ صلاحیت کا نہیں بلکہ سیاسی ارادے کی کمی کا ہے۔
مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں عرب مسیحی پادری سیمون خوری نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عرب فلسطینی معاشرہ خوفزدہ نہیں ہوگا اور منظم جرائم کے خلاف اتحاد اور مضبوطی کے ساتھ کھڑا رہے گا۔
یہ احتجاج ایسے وقت میں منعقد ہوا ہے جب حالیہ ہفتوں کے دوران مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں عرب شہریوں کی جانب سے تقریباً روزانہ احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں، جبکہ پرتشدد جرائم کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
رپورٹ کے مطابق، صرف رواں ماہ کے آغاز سے اب تک 25 عرب شہری قتل کیے جا چکے ہیں، جن میں تازہ ترین واقعہ علاقے عارہ میں زلفہ کے ایک نوجوان کا ہے، جسے جمعہ کے روز قتل کیا گیا۔
عرب 48 کے مطابق، گزشتہ سال مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں 252 عرب شہری صہیونی عناصر کے ہاتھوں قتل ہوئے، جبکہ اسرائیلی پولیس کو عربوں کی جان و مال کے تحفظ میں ناکامی اور جرائم پیشہ گروہوں سے مبینہ تعاون پر مسلسل تنقید کا سامنا ہے۔
آپ کا تبصرہ